ابنا: سعودي عرب کي وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکي نے دعوي کيا ہے کہ موٹرسائيلکل پر سوار چار نقاب پوش مسلح افراد نے عواميہ پوليس مرکز ميں داخل ہونے کي کوشش کي اور اس پر پيٹرول بم پھينکے جس کے جواب ميں پوليس نے حملہ آوروں پر گولياں چلاديں- اس حملے ميں ايک حملہ آورمارا گيا جبکہ باقي تين فرار ہونے ميں کامياب ہوگئے-
دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ سعودي عرب کے مشرقي شہروں ميں جمعے کي رات بھي آل سعود کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري رہا اورقطيف اور العواميہ کے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کے آل سعود حکومت کي ظالمانہ پاليسيوں کے خلاف احتجاجي مظاہرے کئے –مظاہرين ممتاز عالم آيت اللہ دين شيخ باقر النمر کي فوري رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے-
سعودي عرب کے عوام گذشتہ ڈيڑھ سال سے اپنے مظاہروں ميں ملک کےسياسي نظام ميں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر مظاہرے کرتے رہے ہيں ليکن اب عوام اپنے مظاہروں ميں آل سعود حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کرنے لگے ہيں - اس درميان سعودي فوج کے ہاتھوں ممتاز عالم دين شيخ نمر کو گولي مار کر زخمي اور پھر انہيں اغوا کرلينے کے واقعے کے بعد لوگوں ميں مزيد غم وغصہ پھيل گيا ہے- سعودي نوجوانوں کي تنظيم نے آل سعود کو پانچ دن کي مہلت دي ہے کہ وہ انقلابي رہنما شيخ نمر باقر النمر کو رہا کردے –قطيف شہر کے نوجوانوں نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر پانچ دن کے اندر شيخ باقرالنمر کو رہا نہيں کيا گيا تو وہ وزارت داخلہ سے وابستہ سبھي دفاتر اور عمارتوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنائيں گےاور مشرقي علاقوں ميں تيل کے کنوؤں کو آگ لگاديں گے-ايک اور اطلاع يہ ہے کہ سرزمين حجاز کے شيعہ علمائے کرام نے سعودي فرمانروا ملک عبداللہ کے نام ايک خط کے ذريعے ملک ميں لازمي اصلاحات کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے-
قطيف کي علما کونسل کے سينتيس ارکان کے دستخط سے جاري ہونے والے اس خط ميں ملک عبداللہ سے کہا گيا ہے کہ وہ ملک ميں بڑے پيمانے پر سياسي اصلاحات کريں اور قبائيلي تعصبات کو ختم کيا جائے-
قطيف کے علما کي کونسل نے اس خط ميں حکومت کي جانب سے شيعہ مسلمانوں کے خلاف مذہبي تعصبات کے خاتمے کي واضح پاليسي نہ ہونے پر بھي کڑي نکتہ چيني کي ہے- اس خط ميں سرکردہ شيعہ رہنما آيت اللہ نمر باقر النمر کي گرفتاري، اور چار پرامن مظاہرين کي سيکورٹي فورس کے ہاتھوں شہادت کے واقعے کي بھي مذمت کي گئي ہے-
سعودي عرب کے اکثريتي شيعہ علاقوں کے مسلمان سن دوہزار گيارہ سے ملک ميں پرامن مظاہرے کرتے چلے آرہے ہيں- سعودي عرب کے شيعہ مسلمان ملک ميں جمہوري اصلاحات اور مذہبي بينادوں پر روا رکھے جانے والے امتيازي سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہيں-
.......
/169